ایک نئ اور روشن صبح کا اغاز...
پاکستان کے لوگوں نے پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف کو ووٹ اس بنیاد پر دیا تھا کہ ایک تبدیلی لای جائے.دونوں پارٹیوں کا موقف ڈرون حملوں اور وار آن ٹیرر پربڑا واضع ھے.اسی ضمن میں فوجی اپریشن اور بمباری بھی آتی ھے.لوگوں نے ان سب کے اختتام کے لیے فیصلہ دیا ھے.اوراپنے لوگوں پر بمباری ویسے ھی ایک قبیح عمل ھے.طیاروں سے بمباری میں یہ تفریق کرناھی مشکل ھوجاتا ھے کہ نیچے کون ھے اور یہ کہ کون مر رھاھے. مجھے یاد ھے کہ ھنگو میں ایک گھر پر بمباری ھوئ تھی اور پھر دیکھا ھم نے، کہ وہ گھر بذات خود ایک ائر فورس کے جوان کا تھا اور اس میں اس کے فیملی رھائش پزیر تھی.اس طرح مسجد اور مدرسوں پر بھی بمباریاں ھویں.
دوسری طرف ھم دیکھیں تو بھارت کے کشمیر میں کیا کچھ نہ ھوا.مگر وھاں پر بھی کبھی انھوں نے کشمریوں پر بمباری نھیں کی.
پھر ھم ایک مھذب معاشرے میں رھتے ھیں.آیئن آپ کو تحافذ مھیا کرتاھے.ِاسی کاروائ کے لیے نہ تو صدر نہ وزیرآعظم اجازت کا مجاز ھے.اس کے لیے قومی اسمبلی سے باقاعدہ ریزولیشن پاس کرنا ضروری ھے..
ھمیں نواز شریف اور عمران خان کی قیادت پرمکمل عتماد ھے کہ وہ ان کارویوں کی اجازت نھیں دینگے.اگر پھر بھی ایسا کچھ ھو رھا ھے تو دونوں کو اس کا نوٹس لینا چاھیے.عمرن کی چونکہ صوبے میں حکومت بننی ھے. تو اسے اس صوبے کے عوام کا بیڑا بھی اُٹھنا ھوگا.ھر چیز کا الزام مرکز پر نہ ڈالیں.عوام ان دھماکوں.ڈرون اور بمباریوں سے عآجز آچکے ھیں.جھاں پچھلے دس گیارہ سالوں سے کئ اپریشنز سے کچھ حاصل نہ ھوا تو آمن کو بھی اب راستہ دینا چاھیے.ھم سب مذکرات کے اس عمل کیلیے دعاگو ھیں کہ کامیاب ھو اور خیبر پختونخواہ میں آمن آیے.جب آمن ھوگا تو ترقی کے راستے خودبخود کھولتے چلے جائینگے..... انشاءاللہ.
پاکستان کے لوگوں نے پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف کو ووٹ اس بنیاد پر دیا تھا کہ ایک تبدیلی لای جائے.دونوں پارٹیوں کا موقف ڈرون حملوں اور وار آن ٹیرر پربڑا واضع ھے.اسی ضمن میں فوجی اپریشن اور بمباری بھی آتی ھے.لوگوں نے ان سب کے اختتام کے لیے فیصلہ دیا ھے.اوراپنے لوگوں پر بمباری ویسے ھی ایک قبیح عمل ھے.طیاروں سے بمباری میں یہ تفریق کرناھی مشکل ھوجاتا ھے کہ نیچے کون ھے اور یہ کہ کون مر رھاھے. مجھے یاد ھے کہ ھنگو میں ایک گھر پر بمباری ھوئ تھی اور پھر دیکھا ھم نے، کہ وہ گھر بذات خود ایک ائر فورس کے جوان کا تھا اور اس میں اس کے فیملی رھائش پزیر تھی.اس طرح مسجد اور مدرسوں پر بھی بمباریاں ھویں.
دوسری طرف ھم دیکھیں تو بھارت کے کشمیر میں کیا کچھ نہ ھوا.مگر وھاں پر بھی کبھی انھوں نے کشمریوں پر بمباری نھیں کی.
پھر ھم ایک مھذب معاشرے میں رھتے ھیں.آیئن آپ کو تحافذ مھیا کرتاھے.ِاسی کاروائ کے لیے نہ تو صدر نہ وزیرآعظم اجازت کا مجاز ھے.اس کے لیے قومی اسمبلی سے باقاعدہ ریزولیشن پاس کرنا ضروری ھے..
ھمیں نواز شریف اور عمران خان کی قیادت پرمکمل عتماد ھے کہ وہ ان کارویوں کی اجازت نھیں دینگے.اگر پھر بھی ایسا کچھ ھو رھا ھے تو دونوں کو اس کا نوٹس لینا چاھیے.عمرن کی چونکہ صوبے میں حکومت بننی ھے. تو اسے اس صوبے کے عوام کا بیڑا بھی اُٹھنا ھوگا.ھر چیز کا الزام مرکز پر نہ ڈالیں.عوام ان دھماکوں.ڈرون اور بمباریوں سے عآجز آچکے ھیں.جھاں پچھلے دس گیارہ سالوں سے کئ اپریشنز سے کچھ حاصل نہ ھوا تو آمن کو بھی اب راستہ دینا چاھیے.ھم سب مذکرات کے اس عمل کیلیے دعاگو ھیں کہ کامیاب ھو اور خیبر پختونخواہ میں آمن آیے.جب آمن ھوگا تو ترقی کے راستے خودبخود کھولتے چلے جائینگے..... انشاءاللہ.